فوجی فاؤنڈیشن
دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانوی حکومت کی جانب سے پاکستان کے سابق فوجیوں کے لیے چھوڑا گیا 18.4 ملین روپے کا فنڈ ایک فاؤنڈیشن قائم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، تاکہ اس رقم کو صرف ایک بار تقسیم کرنے کے بجائے مستقل بہبود کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ یوں ایک سماجی مقصد سے وابستہ خودکفیل تنظیم کا آغاز ہوا، جو اپنے تجارتی سرمایہ کاریوں سے پاکستان کی قومی اقتصادی ترقی میں بھی کردار ادا کرتی ہے۔
اس کا بنیادی مقصد حکومتِ پاکستان کی ان کوششوں میں مدد فراہم کرنا ہے جو سابق فوجیوں، ان کے خاندانوں، بیواؤں اور شہداء کی بحالی کے لیے کی جاتی ہیں۔ فوجی فاؤنڈیشن اس مشن کو مکمل خود انحصاری کے ساتھ انجام دے رہی ہے۔
ہماری ترقی کا سفر شاندار رہا ہے! 1959 میں 50 بستروں کے چھوٹے ہسپتال سے شروع ہونے والا یہ سفر آج 1,800 سے زائد بستروں پر مشتمل ہے، جو ملک بھر میں 74 طبی مراکز میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں 11 ہسپتال، 63 کلینک، اور 128 تعلیمی ادارے شامل ہیں، جن میں فاؤنڈیشن یونیورسٹی، میڈیکل، ڈینٹل و نرسنگ کالجز،دیگر کالجز، اسکولز اور فنی تربیت کے ادارے شامل ہیں۔ یہ سب ہماری وابستگی اور اصل مقصد کے لیے وقف ہونے کا مظہر ہیں۔ آج فوجی فاؤنڈیشن 1 کروڑ سے زائد افراد کی خدمت کر رہی ہے، جو پاکستان کی کل آبادی کا تقریباً 5فیصد بنتا ہے۔
اینڈوومنٹ فنڈ کو دانشمندی سے زراعت، انفراسٹرکچر، خوراک کی فراہمی، بجلی، توانائی اور مالیاتی خدمات جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ سرمایہ کاریاں نہ صرف فاؤنڈیشن کے لیے آمدنی کا ذریعہ بنتی ہیں بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں، خاص طور پر خوراک میں خود کفالت، توانائی کے تحفظ، انفراسٹرکچر کی ترقی اور مالیاتی شمولیت جیسے مسائل پر توجہ دے کر جو قوم کو درپیش ہیں۔
زیادہ تر تجارتی سرمایہ کاریاں پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں رجسٹرڈ ہیں اور اعلیٰ ترین کارپوریٹ گورننس اور دیانتداری کے اصولوں کے تحت کام کرتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان سرمایہ کاریوں نے قلیل شیئر ہولڈرز کے لیے بھی قابلِ ذکر منافع پیدا کیا ہے۔ ان کمپنیوں کے شیئر ہولڈرز میں عوام (55 فیصد) اور فاؤنڈیشن (45 فیصد) شامل ہیں، جس سے بالواسطہ طور پر عام لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ فاؤنڈیشن ہر سال تقریباً 30 ارب روپے کا منافع حاصل کرتی ہے، جن میں سے 16 ارب روپے عوام کو ادا کیے جاتے ہیں۔ قومی خزانے میں فاؤنڈیشن کا سالانہ حصہ محصولات اور ٹیکسز کی مد میں 170 ارب روپے سے زائد ہے، جو اسے پاکستان کے سب سے بڑے ٹیکس دہندگان میں شامل کرتا ہے۔
ہم اپنے سب سے قیمتی اثاثے یعنی اپنے 27,000 ملازمین (جن میں سے 80 فیصد سے زائد غیرفوجی افراد ہیں)کے شکر گزار ہیں، جن کے جذبے، محنت اور لگن نے فوجی فاؤنڈیشن کو ایک ایسی کامیابی کی داستان بنا دیا ہے جس پر دیگر سماجی و کاروباری ادارے بھی فخر کر سکتے ہیں۔